چھچھورا پن

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - کمینہ پن، سفلہ پن، کمینگی، بدتہذیبی۔ "لڑکی والوں کی شرط یہ ہے کہ ساری رسمیں ادا کریں گے یہ سخت چھچھورے پن کی بات ہے"      ( ١٩٦٧ء، جلا وطن، ١١٧ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ 'تُچَّھک +ر + کہ' سے ماخوذ 'چھچھورا' کے ساتھ 'پن' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب 'چھچھورا پن' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٨٩ء، کو "سیر کہسار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کمینہ پن، سفلہ پن، کمینگی، بدتہذیبی۔ "لڑکی والوں کی شرط یہ ہے کہ ساری رسمیں ادا کریں گے یہ سخت چھچھورے پن کی بات ہے"      ( ١٩٦٧ء، جلا وطن، ١١٧ )

جنس: مذکر